:
Breaking News

Maharashtra News: ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان میں سوالنامہ افشا کا بڑا معاملہ، 294 سوالات کے خفیہ سیٹ کی کڑی تین افسران سمیت 6 گرفتار

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | مہاراشٹر میں ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر بھرتی امتحان کے سوالنامہ افشا معاملے میں تین افسران سمیت چھ افراد گرفتار، 294 سوالات کے خفیہ سیٹ کی مبینہ خرید و فروخت کی تحقیقات، امتحان منسوخ اور دوبارہ امتحان کا اعلان۔

294 سوالات کا خفیہ سیٹ، ایم پی ایس سی کے تین افسران پر سنگین الزام؛ ڈرگ انسپکٹر امتحان منسوخ

مہاراشٹر میں سرکاری ملازمت کے لیے ہونے والے ایک اہم مسابقتی امتحان کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) نے ڈرگ انسپکٹر، گروپ-B کی پوری بھرتی کا عمل منسوخ کر دیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کی ابتدائی تفتیش میں مبینہ طور پر سوالات کے ایک خفیہ مجموعے کو امتحان سے پہلے باہر پہنچانے کی کڑی سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں ایم پی ایس سی کے تین افسران سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 

پولیس کے مطابق اس معاملے کا مرکز ماہرین کی جانب سے تیار کیے گئے 294 خفیہ سوالات کا ایک مبینہ ’’سپر سیٹ‘‘ ہے۔ تفتیشی دعوے کے مطابق ایم پی ایس سی کے اسسٹنٹ سیکشن آفیسر وشویشور دتاتریہ ناکاتے نے مبینہ طور پر اصل خفیہ مواد تک رسائی حاصل کرکے 294 سوالات الگ تیار کیے۔ الزام ہے کہ یہ سوالات پرنٹ کرکے کمیشن کے ہی ایک دوسرے افسر کے ذریعے بیرونی افراد تک پہنچائے گئے۔ 

تین ایم پی ایس سی افسران سمیت چھ گرفتار

ممبئی کرائم برانچ نے اس معاملے میں ایم پی ایس سی کے انڈر سیکریٹری ابھجیت گنپتراؤ لینڈوے، اسسٹنٹ سیکشن آفیسر وشویشور دتاتریہ ناکاتے اور گوپال بھٹو مراٹھے کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے علاوہ نندوربار کی کوتلیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروین دلیپ پاٹل، امریت نام دیو پاٹل اور لوکیش عرف گورو راجندر پاٹل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ 

پولیس کا الزام ہے کہ امتحان کے لیے تیار خفیہ سوالات تک رسائی حاصل کرنے کے بعد انہیں ایک الگ مجموعے کی شکل دی گئی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر یہ مواد ایم پی ایس سی کے اندر موجود افراد سے کوچنگ ادارے سے وابستہ شخص تک پہنچا۔ تفتیش کار اب یہ معلوم کرنے میں مصروف ہیں کہ خفیہ سوالات کو اصل نظام سے باہر نکالنے میں کس شخص کا کیا کردار تھا اور یہ مواد مزید کتنے امیدواروں تک پہنچا۔

پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی کا بھی الزام

تفتیش کے مطابق پروین پاٹل اور امریت پاٹل کے درمیان مبینہ مالی لین دین بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ امریت پاٹل نے مبینہ طور پر سوالات کے سیٹ کے عوض پروین پاٹل کو پانچ لاکھ روپے دیے تھے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیا 294 سوالات کا یہ سیٹ صرف ایک امیدوار تک محدود رہا یا اسے دوسرے امیدواروں کو بھی فروخت کیا گیا۔ 

اس معاملے میں ایک خاتون امیدوار رِتوجا پاٹل کا نام بھی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اسے نوٹس جاری کیا ہے اور اس کی مبینہ طور پر لیک شدہ سوالات تک رسائی اور امتحان میں اس کے استعمال کے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ابھی اس کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

امتحان میں کتنے سوالات ملے؟

کرائم برانچ کی تفتیش میں ایک اہم دعویٰ یہ سامنے آیا ہے کہ 294 سوالات کے مبینہ خفیہ سیٹ میں سے 77 سوالات اصل امتحانی پرچے میں شامل تھے۔ بعض رپورٹس میں امیدوار کی جانب سے بڑی تعداد میں سوالات کے مماثل ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، لیکن دستیاب پولیس تفتیشی تفصیلات میں 294 میں سے 77 سوالات کے امتحانی پرچے میں آنے کی بات نمایاں طور پر درج ہے۔ 

یہی مماثلت اب پورے معاملے کی تفتیش کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ امتحان سے پہلے سوالات کس تاریخ کو اور کس ذریعے سے متعلقہ افراد تک پہنچے۔

بریک اپ کے بعد سامنے آیا معاملہ

اس پورے معاملے کا سب سے غیر معمولی پہلو گورو پاٹل سے جڑا ہے۔ تفتیش کے مطابق گورو کا رِتوجا پاٹل سے قریبی تعلق تھا۔ الزام ہے کہ رِتوجا کو مبینہ طور پر امتحان سے پہلے سوالات کا سیٹ ملا اور بعد میں اس نے یہ مواد گورو کے ساتھ بھی شیئر کیا۔

بعد میں دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے اور بریک اپ ہوگیا۔ اسی دوران گورو نے ایم پی ایس سی کو ای میل کے ذریعے امتحان میں مبینہ بے ضابطگی کی اطلاع دی۔ ابتدا میں وہ شکایت کنندہ یا اطلاع دینے والے شخص کے طور پر سامنے آیا، لیکن تحقیقات آگے بڑھنے پر پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ وہ خود بھی مبینہ طور پر لیک شدہ سوالات کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھا۔ 

پولیس اب یہ بھی جانچ رہی ہے کہ گورو نے اپنے بھائی کو یہ سوالات دیے تھے یا نہیں۔ گورو کا دعویٰ بتایا گیا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر بھائیوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سے سوالات اس کے ساتھ شیئر نہیں کیے تھے۔ اس دعوے کی بھی تفتیش جاری ہے۔

صرف ایک امیدوار نہیں، پورے نیٹ ورک کی جانچ

کرائم برانچ کو شبہ ہے کہ 294 سوالات کا مبینہ سیٹ صرف ایک امیدوار تک محدود نہیں رہا ہوگا۔ تفتیش کار کوچنگ ادارے سے جڑے افراد، امیدواروں اور درمیان میں رابطے کا کردار ادا کرنے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

پولیس یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ اس سیٹ کی کتنی کاپیاں تیار ہوئیں، کتنے امیدواروں تک سوالات پہنچے اور اس کے عوض کتنی رقم وصول کی گئی۔ اسی سلسلے میں مایور ٹھاکرے کی تلاش بھی کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر امریت پاٹل اور پروین پاٹل کے درمیان رابطہ قائم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔

11 سال بعد ہونے والی بھرتی بھی تنازع میں پھنس گئی

ڈرگ انسپکٹر کی یہ بھرتی تقریباً 11 سال کے وقفے کے بعد ہوئی تھی۔ ایم پی ایس سی نے 29 جولائی 2025 کو بھرتی کا اشتہار جاری کیا تھا۔ اس کے تحت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ میں گروپ-B ڈرگ انسپکٹر کی 154 آسامیوں کے لیے 22 مارچ 2026 کو اسکریننگ امتحان لیا گیا۔ امتحان مہاراشٹر کے چھ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا اور تقریباً 44,500 امیدوار اس عمل سے وابستہ تھے۔

12 جون کو امتحان کا نتیجہ جاری کیا گیا، جس کے بعد 506 امیدواروں کو انٹرویو کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ یکم جولائی سے 22 جولائی کے درمیان 488 امیدواروں کے انٹرویو ہوئے۔ بعد میں 488 امیدواروں پر مشتمل عارضی میرٹ لسٹ بھی جاری کی گئی، جس میں 485 امیدوار تقرری کے لیے اہل پائے گئے جبکہ تین امیدوار نااہل قرار دیے گئے۔ 

ایم پی ایس سی نے پوری بھرتی منسوخ کردی

امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات 22 سے 26 جولائی کے درمیان کمیشن کو موصول ہوئیں۔ شکایات میں الزام لگایا گیا کہ بعض امیدواروں کو امتحان سے پہلے سوالات یا سوالنامے تک رسائی حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ایم پی ایس سی نے ممبئی پولیس سے تحقیقات کی درخواست کی۔ 

ابتدائی پولیس تحقیقات اور مبینہ پیپر لیک کے شواہد سامنے آنے کے بعد ایم پی ایس سی نے 26 اگست کو پوری بھرتی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اب دوبارہ امتحان لیا جائے گا اور پہلے درخواست دینے والے امیدواروں کو دوبارہ درخواست دینے یا اضافی امتحانی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نئے امتحان کی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔ 

اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر ان امیدواروں پر پڑا ہے جنہوں نے مہینوں کی تیاری کے بعد امتحان دیا، نتیجہ حاصل کیا، انٹرویو تک پہنچے اور میرٹ لسٹ میں بھی جگہ بنائی۔ اب انہیں دوبارہ امتحانی مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

امتحانی نظام کی شفافیت پر بڑا سوال

یہ معاملہ محض ایک امتحان منسوخ ہونے تک محدود نہیں ہے۔ اگر تفتیش میں سوالات کو کمیشن کے اندر سے باہر لے جانے کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ امتحانی نظام میں خفیہ مواد کی حفاظت، رسائی کے طریقہ کار اور داخلی نگرانی پر سنگین سوال اٹھائے گا۔

اب تحقیقات کا اصل دائرہ یہ معلوم کرنے پر ہے کہ 294 سوالات کا مبینہ سیٹ کس نے تیار کیا، اصل خفیہ مواد تک کس طرح رسائی حاصل ہوئی، سوالات کن لوگوں تک پہنچے، مالی لین دین کا دائرہ کتنا بڑا تھا اور آیا اس میں مزید امیدوار یا افراد شامل تھے۔ چھ افراد کی گرفتاری کے باوجود تفتیش ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور مزید کارروائی کے امکانات برقرار ہیں۔ 

امتحان منسوخ ہونا امیدواروں کے لیے صرف ایک نئی تاریخ کا مسئلہ نہیں

سرکاری ملازمت کے امتحان میں کامیابی کے لیے نوجوان برسوں تیاری کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر امتحان کے بعد نتیجہ، انٹرویو اور میرٹ لسٹ تک پہنچنے کے باوجود پورا عمل منسوخ کردیا جائے تو اس کا بوجھ صرف امیدوار پر پڑتا ہے۔ ایم پی ایس سی کا دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ شفافیت بحال کرنے کے لیے ضروری قدم ہوسکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف تفتیش منطقی انجام تک پہنچے۔

اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ امتحان دوبارہ کب ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ خفیہ سوالات امتحانی نظام سے باہر کیسے پہنچے۔ اگر ادارے کے اندر موجود کسی اہلکار نے اختیارات کا مبینہ غلط استعمال کیا ہے تو مستقبل کے امتحانات کے لیے اس خامی کو دور کرنا ضروری ہوگا۔

امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑ رہا ہے، اس لیے کمیشن کو نئے امتحان میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات، سوالنامے کی محدود رسائی، ڈیجیٹل نگرانی اور ہر مرحلے کی جواب دہی یقینی بنانی چاہیے۔ سرکاری بھرتی کا امتحان کسی فرد یا کوچنگ ادارے کا ذریعہ آمدنی نہیں، بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ عمل ہے۔ اس کی شفافیت پر معمولی سا شک بھی پورے نظام پر اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ایم پی ایس سی نے ڈرگ انسپکٹر بھرتی امتحان منسوخ کیا، نئے امتحان کا اعلان

مہاراشٹر میں سرکاری بھرتی امتحان کے سوالنامے کی مبینہ لیک، کرائم برانچ کی تحقیقات جاری

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *